لو کان بعدی نبی لکان عمر بن الخطاب

Posted: November 16, 2012 in General, Religious

خلیفہ دوم سیدنا حضرت عمر فاروقرضي کا اسم مبارک عمر اور لقب فاروق ہے۔
آپرضي کا خاندانی شجرہ آٹھویں پشت میں حضور اکرمص سے ملتا ہے۔
آپرضي کے والد کا نام خطاب اور والدہ کا نام عتمہ ہے۔
آپرضي واقعہ فیل کے تیرہ برس بعد مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے آپرضي عمر میں تقریباً گیارہ سال حضور اکرمص سے چھوٹے ہیں۔

اسلام قبول کرنے سے پہلے آپرضي قریش کے باعزت قبیلے سے تعلق رکھتے تھے۔ اعلان نبوت کے چھ سال بعد 27 سال کی عمر میں آپرضي نے اسلام قبول کیا۔ آپرضي مراد رسولص ہیں یعنی حضور اکرمص نے اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں دعاء کی اے پروردگار ! عمر یا ابوجہل میں جو تجھے پیارا ہو اس سے اسلام کو عزت عطا فرما۔
دعاء بارگاہ خداوندی میں قبول ہوئی اور آپرضي مشرف با اسلام ہو گئے۔ آپرضي کے اسلام قبول کرنے سے پہلے 39 مرد اسلام قبول کر چکے تھے آپرضي 40ویں مسلمان مرد تھے۔ آپ کے اسلام قبول کرنے سے مسلمانوں کو بہت خوشی ہوئی اور انہیں حوصلہ ملا۔ اسلام کی قوت میں اضافہ ہوا۔ حضرت علیرضي فرماتے ہیں کہ جس کسی نے ہجرت کی چھپ کر کی مگر حضرت عمررضي مسلح ہو کر خانہ کعبہ میں آئے اور کفار کے سرداوں کو للکارا اور فرمایا کہ جو اپنے بچّوں کو یتیم کرنا چاہتا ہے وہ مجھے روک لے۔ حضرت عمررضي کی زبان سے نکلنے والے الفاظوں سے کفار مکہ پر لرزہ طاری ہو گیا اور کوئی مد مقابل نہ آیا۔ ہجرت کے بعد آپرضي نے جان و مال سے اسلام کی خوب خدمت کی۔ آپرضي نے اپنی تمام زندگی اسلام کی خدمت کرنے میں گزار دی۔ آپ حضور اکرمص کے وفادار صحابی ہیں۔ آپرضي نے تمام اسلامی جنگوں میں مجاہدانہ کردار ادا کیا اور اسلام کے فروغ اور اس کی تحریکات میں حضور اکرمص کے رفیق رہے۔
سیدنا حضرت عمر فاروقرضي کا مقام و مرتبہ بہت بلند ہے۔ آپرضي کی فضیلت میں بہت سی احادیث موجود ہیں۔ سرکار دو عالمص  کا ارشاد
گرامی ہے۔
لو کان بعدی نبی لکان عمر بن الخطاب ۔
ترجمہ :۔ میرے بعد اگر نبی ہوتے تو عمر ہوتے۔ (مشکوٰۃ شریف ص558 )

مذکورہ بالا حدیث مبارکہ سے یہ واضح ہوا کہ حضور اکرمص آخری نبی ہیں۔ آپص پر نبوت و رسالت ختم ہو چکی۔ اب قیامت تک کوئی بھی نبی اور رسول نہیں آئے گا۔ جو اس واضح حقیقت کے باوجود دعوٰی نبوت کرے یا جو کوئی اس کو نبی یا رسول مانے وہ ملعون کاذب کافر و مرتد ہے۔ مذکورہ حدیث سے حضرت عمر فاروقرضي کے مرتبے کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اگر حضور ص پر نبوت ختم نہ ہوتی تو آپ کے بعد حضرت عمر فاروقرضي نبی ہوتے۔ حضور اکرمص نے ایک اور موقع پر ارشاد فرمایا۔
بے شک میں نگاہ نبوت سے دیکھ رہا ہوں کہ جن کے شیطان اور انسان کے شیطان دونوں میرے عمررضي کے خوف سے بھاگتے ہیں۔ (مشکوٰۃ شریف ص558 )
ترمذی شریف کی حدیث میں ہے کہ پیغمبر آخر الزماں حضرت محمدص نے ارشاد فرمایا “اللہ تعالٰی نے عمر کی زبان اور قلب پر حق کو جاری فرما دیا۔ (بحوالہ مشکوٰۃ صفحہ557)
معلوم ہوا کہ سیدنا حضرت عمر فاروقرضي ہمیشہ حق کہنے والے ہیں۔ ان کی زبان اور قلب پر کبھی باطل جاری نہیں ہوگا۔ اور یہ معلوم ہوا کہ سیدنا حضرت عمر فاروق کے خوف اور دبدبے سے شیطان اور ان کے آلہ کار بھاگتے ہیں۔
حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ “جب حضرت عمر فاروق اسلام لائے تو حضرت جبرائیلعليه اسلام حضورص کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یارسول اللہص آسمان والے عمر کے اسلام پر خوش ہوئے ہیں۔ (ملاحظہ ہو ابن ماجہ بحوالہ برکات آل رسول صفحہ 291)
سیدنا حضرت عمر فاروقرضي کی عظمت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ قرآن مجید کی بہت سی آیتیں آپ کی خواہش کے مطابق نازل ہوئیں۔ سیدنا حضرت علیرضي فرماتے ہیں کہ حضرت عمر فاروقرضي کے رائیں قرآن مجید میں موجود ہیں۔
تاریخ خلفاء میں ہے کہ حضرت عمر فاروقرضي کسی معاملہ میں کوئی مشورہ دیتے تو قرآن مجید کی آیتیں آپ کے مشورے کے مطابق نازل ہوتیں۔ (تاریخ الخلفاء)
مسلمانو ! سیدنا حضرت عمررضي کے مشوروں کو اللہ تعالٰی کس طرح پسند فرماتا تھا اس کا اندازہ اس طرح لگائیے۔
ایک مرتبہ حضرت عمر فاروقرضي نے حضور اکرم سے عرض کی یارسول اللہص  ! آپ کی خدمت میں ہر طرح کے لوگ آتے جاتے ہیں اور اس وقت آپ کی خدمت میں آپ کی ازواج بھی ہوتی ہیں۔ بہتر یہ ہے کہ آپص ان کو پردہ کرنے کا حکم دیں چنانچہ حضرت عمررضي کے اس طرح عرض کرنے پر ازواجِ مطہرات کے پردے کے بارے میں قرآن مجید کی آیت نازل ہوئی۔ ارشاد خداوندی ہے۔
واذا سالتموھن متاعا فسلوھن من ورآء حجاب (پ22 ع4)
ترجمہ :۔ اور جب تم امہات المومنین سے استمعال کرنے کی کوئی چیز مانگو تو پردے کے باہر سے مانگو۔
ایک مرتبہ ایک یہودی حضرت عمر فاروقرضي کے پاس آ کر کہنے لگا کہ تمہارے نبیص جس جبرائیل فرشتہ کا تذکرہ کرتے ہیں وہ ہمارا سخت دشمن ہے۔ حضرت عمر فاروقرضي نے اس کو جواب دیا۔
من کان عدواللہ وملکتہ ورسلہ وجبریل ومیکال فان اللہ عدو للکفرین ہ
ترجمہ :۔ جو کوئی دشمن ہو اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کے رسولوں اور جبرئیل اور میکائیل کا تو اللہ دشمن ہے کافروں کا۔
جن الفاظ کے ساتھ سیدنا حضرت عمر فاروق نے یہودی کو جواب دیا بالکل انہی الفاظ کے ساتھ اللہ تعالٰی نے قرآن مجید میں آیت کریمہ نازل فرمائی۔ (پ1 ع12)
ان واقعات سے حضرت عمر فاروقرضي کی شان و عظمت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ آپرضي اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں اس قدر محبوب تھے کہ آپرضي کے خیال کے مطابق قرآن مجید کی کئی آیتیں نازل ہوئیں


Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s