حكايت

Posted: December 3, 2012 in Religious
Tags: , , , ,

حضرت احمد بن سعید رحمۃ اللہ علیہ کا بیان ہے کہ ہمارے یہاں کوفہ میں ایک نوجوان رہتا تھا تو انتہائی عبادت گزار تھا اور ہمہ وقت جامع مسجد میں پڑا رہتا تھا ۔ ساتھ ہی وہ نہایت ہی دراز قامت ، خوبصورت اور خوب سیرت بھی تھا ۔ ایک حسینہ عورت نے اسے دیکھا تو پہلی ہی نظر میں وہ فریفتہ ہو گئی ۔

کیا آتش حل کردہ پلا دی ساقی
دھونک ڈالا ہے جگر آگ لگادی ساقی

ایک مدت تک عشق کی چنگاری اس کے دل میں سلگتی رہی لیکن اسے اپنی محبت کے اظہار کا موقع نہ ملا ۔ ایک روز وہ نوجوان مسجد جا رہا تھا وہ عورت آئی اور اس کا راستہ روک کر کھڑی ہو گئی ، اور کہنے لگی نوجوان ! پہلے میری بات سن لو اس کے بعد جو دل میں آئے وہ کرو ۔ لیکن نوجوان نے کوئی جواب نہ دیا اور چلتا رہا یہاں تک کہ مسجد میں پنہچ گیا ۔ واپسی میں وہ عورت پھر راستے میں کھڑی نظر آئی جب وہ نوجوان قریب پنہچا تو اس نے بات کرنے کی خواہش ظاہر کی ۔ نوجوان نے کہا کہ یہ تہمت کی جگہ ہے ، میں نہیں چاہتا کہ کوئی شخص مجھے تمہارے ساتھ کھڑا ہوا دیکھ کر تہمت لگائے اس لئے میرا راستہ نہ روکو اور مجھے جانے دو ۔ اس عورت نے کہا خدا کی قسم میں یہاں اس لئے نہیں کھڑی ہوئی کہ مجھے تمہاری حثییت کا علم نہیں ہے ، یا میں یہ نہیں جانتی کہ یہ تہمت کی جگہ ہے ، خدا نہ کرے لوگوں کو میرے متعلق بد گمان ہونے کا موقع ملے لیکن مجھے اس معاملے میں بزات خود تم سے ملاقات پر اس امر نے اکسایا ہے کہ لوگ تھوڑی سی بات کو زیادہ کر لیتے ہیں اور تم جیسے عبادت گزار لوگ آئینے کی طرح ہیں کہ معمولی سا غبار بھی اس کی صفائی کو متاثر کر دیتا ہے ، میں تو سو بات کی ایک بات یہ کہنا چاہتی ہوں کہ میرا دل و جان تمام اعضاء تم پر فدا ہیں ، اور

ہجر میری موت ہے اور زندگی میری وصال
اب بتاؤ تم کو ان دونوں میں کیا منظور ہے

اور اللہ ہی ہے جو میرے اور تمہارے معاملے میں کوئی فیصلہ فرمائے ۔ وہ نوجوان اس عورت کی یہ تقریر سن کر خاموشی کے ساتھ کوئی جواب دئیے بغیر اپنے گھر چلا گیا ۔ گھر پنہچ کر نماز پڑھنی چاہی لیکن نماز میں دل نہیں لگا اور سمجھ میں نہ آیا کہ کیا کریں ۔ مجبورا قلم کاغذ سنمبھالا اور اس عورت کے نام ایک خط لکھا ۔ خط لکھ کر باہر آیا ، دیکھا کہ وہ عورت اسی طرح راہ میں کھڑی ہوئی ہے ، اس نے خط اس کی طرف پھینک دیا اور خود تیزی سے گھر میں داخل ہو گیا ۔

خط کا مضمون
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم]

اے عورت ! تجھے یہ بات جان لینی چاہیے کہ جب بندہ اپنے خدا کی نا فرمانی کرتا ہے تو وہ در گزر سے کام لیتا ہے جب وہ دوبارہ اسی معصییت کا ارتکاب کرتا ہے تب بھی وہ پردہ پوشی فرما دیتا ہے ، لیکن جب وہ اس معصییت کو اپنا مشغلہ بنا لیتا ہے تو پھر ایسا غضب نازل فرماتا ہے کہ زمین و آسمان شجر و حجر کانپ اٹھتے ہیں ، کون ہے وہ جو اس کی سزا کو برداشت کر سکے ، کون ہے جو اس کی ناراضگی کا تحمل کر سکے ، بس اس کے حضور میں اپنے آپ کو پیش کر جو تمام جہانوں کا رب ہے ، اس جبار عظیم کے آگے سربسجود ہو جا اس سے محبت کر کیونکہ وہ شروع سے ہے اور آخر تک تیرے ساتھ رہے گا ۔ فقط طالب دعا ۔۔۔
اس خط کے کافی دنوں کے بعد وہ عورت پھر راستے میں کھڑی نظر آئی ، انہوں نے اسے دیکھ لیا اور واپس لوٹنے کا ارادہ کیا لیکن اس عورت نے کہا ، کیوں واپس جاتے ہو ؟ یہ آخری ملاقات ہے

لقاء آخر ہے ظالم دیکھ لینے دے اک نظر
پھر تیری ایک ہی وصیت پر کٹ جائے گی زندگانی ہماری

آج کے بعد پھر خدا ہی کے یہاں ملاقات ہو گی ۔ یہ کہہ کر خوب روئی اور کہنے لگی کہ میں خدا سے جس کے ہاتھ میں تمہارا دل ہے یہ دعا کرتی ہوں کہ وہ تمہارے سلسلے میں درپیش میری مشکل آسان فرمائیں ۔ اب تم صرف مجے ایک نصیحت کرو ۔ نوجوان نے کہا ! میں صرف یہ نصیحت کرتا ہوں کہ خود کو اپنے نفس سے محفوظ رکھنا اور اس آیت کو ہمیشہ ذہن میں رکھنا ۔

ھوالذی یتوفٰکم باالیل و یعلم ما جرحتم بالنھار

ترجمعہ : اور وہ ذات تو ایسی ہے کہ رات میں تمہاری روح کو قبض کر دیتا ہے اور جو کچھ تم دن میں کرتے ہو اس کو اچھی طرح جانتا ہے ۔
اور یہاں تک کہ : یعلم خائنۃ الاعین وما تخفی الصدور : وہ تمہاری آنکھوں کی چوری کو بھی جانتا ہے اور ان باتوں کو بھی جو سینوں میں پوشیدہ ہیں ۔
یہ نصیحت سن کر وہ عورت بہت روئی اور دیر تک روتی رہی ۔ اور جب افاقہ ہوا تو اپنے گھر پنہچی اور کچھ عرصہ عبادت میں مشغول رہ کر ایمان کے ساتھ دنیا سے رخصت ہو گئی
{ مظہری و احیاء بحوالہ اسلاف کی یادیں}

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s